آج کی نوجوان نسل کو شاید علم نہ ہو کہ بینک کبھی سائکل جیسی سستی ذاتی سواری کے لئیے بھی قرض دیتے تھے۔زیر نظر تصویر 1970ء کے عشرے کے ایک بینک کے اشتہار کی ہے ہے جس کا عنوان ہے اپنی سائکل اپنی سواری۔بینک کم آمدنی والوں کو مخاطب کرکے خوش خبری دے رہا ہے کہ آپ صرف 100 روپیہ دیں،باقی رقم بینک دے گا اور آپ اپنی سائکل کے مالک بن جائیں گے۔
ایک
اور اشتہار ریلے سائکل کا ہے کہ 45 روپے نقد دیں اور 20 روپے ماہوار چھ ماہ کے
لئیے دیں اور ساتویں مہینے اپنی ریلے سائکل کے مالک بن جائیں۔یعنی سائیکل کی کل
قیمت 165 روپے تھی۔اس وقت سائکل کی زیادہ سے زیادہ قیمت 200 روپے تھی۔
1970ء کے عشرے میں اتنی ارزانی ہونے باوجود لوگ اقساط پر سائکل خریدتے تھے،اور
اس کے لئیے قرض بھی اٹھاتے تھے۔آج لوگ کروڑوں روپے کی گاڑیاں فورآ نقد لے لیتے
ہیں۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ مہنگائی اس کے لئیے ہے جس کے پاس پیسا نہیں ہے۔
ان
دنوں سائکل سواری کا دور دورہ تھا۔پورے محلے میں اکا دکا موٹر کاریں اور چند ایک
موٹر سائیکلیں نظر آتی تھیں۔گلیوں،سڑکوں،سکول،کالج اور دفاتر میں سائیکلیں ہی
سائکلیں نظر آتی تھیں۔سکول کالج کے اساتذہ اور دفاتر کے بابووں کی پسندیدہ،اپنی
اور سستی سواری سائکل ہی تھی۔سائکل سواری ہماری تہذیب وتمدن میں یوں رچی بسی تھی
کہ سالگرہ میں چھوٹے بچوں کو تین پہیوں والی سائکل،اس سے بڑے بچوں کو چھوٹی دو
پہیوں والی اور سکول کالج میں پڑھنے والے لڑکوں کو بڑی سائکل تحفے یا انعام میں
دیتے تھے۔سائکل پر سکول جانے والے طالب علم پیدل جانے والے طالب علموں کے پاس سے
یوں شاں کرکے گذر جاتے کہ کہیں ان کو سائکل پر بٹھانا نہ پڑ جائے۔
ابا جی
کے پاس ایک ریلے مارکہ پرانی سائکل تھی،لیکن اتنی بھی پرانی نہیں تھی کہ جس کو دیکھ
کر پطرس بخاری کے مضمون میں بیان کردہ مرزا کی سائکل یاد آ جائے۔ابا جی اس سائکل
پر کام پر جاتے اور واپس آتے۔وہ اپنی سائکل نہ کسی کو دیتے اور نہ ہاتھ لگانے
دیتے،مجھے سارا دن انتظار رہتا کہ کب ابا جی آئیں گے اور کب میں ان کی سائکل کو
فریم کے اندر سے ٹانگ نکال کر بہ صورت قینچی چلاؤں گا۔ چھوٹے بچے ایسے ہی قینچی
چلا کر سائکل سواری سیکھتے،کئ بار گر کر کچھ چوٹیں بھی سہہ جاتے اور کبھی کبھار
سائکل کو بھی نقصان پہنچ جاتا۔ابا جی نے یہ سائکل بہت سنبھال کر رکھی ہوئی تھی،صاف
ستھری اور چمک دار،خوب صورت کاٹھی اور گدی،سائکل ہینڈل کے سامنے سامان رکھنے والی
رنگین جالی کی ٹوکری جو بوقت ضرورت ہینڈل کے ساتھ لگائی اور اتاری جا سکتی
تھی،ہینڈل کے ساتھ ایک جانب لگی سیل سے بجنےوالی گھنٹی اور دوسری جانب ہاتھ سے بجے
والی گھنٹی تھی جو راہ گیروں کو خبردار کرتی کہ پیچھے سے سائکل آرہی ہے۔ہیندل سے
ذرا نیچے چمٹے پر ڈاینمو سے چلنے والی بتی لگی ہوتی تھی جو رات کے اندھیرے میں
رستہ روشن کرتی۔سائکل کے پچھلے ٹائر کے ساتھ ایک ڈاینمو لگی ہوتی جو سائکل چلنے کے
ساتھ چلتی اور بتی کو روشن کرتی۔بتی میں ایک بڑا اور ایک چھوٹا بلب لگا ہوتا تھا
جن کو ایک بٹن کے ذریعے روشن اور بند کرتے تھے۔
۔ںچوں
کو بٹھانے کے لئیے سائکل فریم کے ڈنڈے پر ایک چھوئی کاٹھی یا گدی لگاتے یا موٹا
کپڑا لپیٹ لیتے تاکہ بچہ آرام سے بیٹھ جائے۔سائکل کے پچھلے پہیے کے اوپر ایک لوہے
کا کیرئیر لگا ہوتا تھا جو مال برداری کے لئیے استعمال ہوتا تھا۔کیرئیر پر بڑا
بندہ یا خاتون خانہ بیٹھتی تھی۔بچوں کو کیرئیر پر نہیں بٹھاتے تھے کہ ان کے پاؤں
کی ایڑیاں اکثر پچھلے پہیے کی تاروں میں پھنس کر زخمی ہو جاتی تھیں۔بابو اور
نوجوان بطور فیشن سائکل کے کیریئر کو اتار کر رکھ لیتے تھے۔اکثر لوگوں نے سائکل کے
پچھلے مڈ گارڈ کے اوپر کٹاوں والی پتری لگائی ہوتی تھی تاکہ کوئی مد گارڈ کے اوپر
نہ بیٹھ سکے۔سائکل کے پچھلے مڈ گارڈ کے بالکل نیچے دن اور رات کی روشنی میں چمکنے
والی ایک گول سی پلاسٹک کی ٹکی لگائی ہوتی تھی تاکہ پیچھے آنے والوں کو سائکل نظر
آسکے اور کوئی حادثہ پیش نہ آ جائے۔کئ سائیکلوں کے فریم کے پچھلے ڈنڈے کے ساتھ ہوا
بھرنے والا ہتھ پمپ یا پانی والی بوتل بھی دو ہکس کی مدد سے جڑی ہوتی تھی۔
منچلے
اور شوقین افراد سائکل کی سجاوٹ میں خصوصی دلچسپی لیتے۔ کاٹھی، گدی کاجھالر والا
رنگین گرد پوش،سائکل کے چمٹے کے ساتھ رنگین ربڑ چڑھے دو اضافی سریے،سائکل کے دونوں
پہیوں کی تاروں میں پروئے گئے رنگ برنگے موتی جو سائکل چلنے سے مختلف قسم کی
آوازیں پیدا کرتے، سائکل کے اگلے مڈ گارڈ پر جہاز،عقاب یا کسی اور جانور کی دھات
سے بنی شکل لگانا،پہیوں کے دھرے کو گرد و غبار سے پاک رکھنے کے لئیے ان کے اوپر
پلاسٹک کے بنے رنگ برنگے چھلے چڑھانا اور مختلف قسم کے رنگین چھاپے لگانا شامل
تھا۔کئ بار پلاسٹک کو بوتل ،گتہ یا کاغذ کو سائکل کے پچھلے پہیے کے قریب پھنسا
دیتے جو پہیے کے چلنے پر مختلف قسم کی آوازیں پیدا کرتے۔
سائکل
سواری ایک سستی اور کفایت شعار سواری ہے جس میں کوئی ایندھن استعمال نہیں ہوتا۔یہ
انسانی قوت سے چلتی ہے جس سے انسانی صحت فعال اور درست رہتی ہے۔مغربی ممالک میں
سائکل سواری عام ہے اور ہر خاص و عام سائکل سواری کرتا ہے۔صدر ضیاء الحق کو ایک
دفعہ سائکل پر دفتر جانے کا شوق چڑھا جس کے لئیے اس قدر حفاظتی انتظامات کئیے گئے
کہ سائکل سواری ترک کرنا پڑی۔
سائکل
سواری سرکس اور عام زندگی میں بھی بہت اہم ہے۔سرکس میں ایک پہیے کی سائکل کو تنی
ہوئی رسی اور مختلف چیزوں کے اوپر چلا کر مختلف قسم کے کرتب دکھانا کسے بھولا
ہوگا۔بچپن میں ہر محلے کے کھلے میدان میں ایک ایک یا دو دو ہفتے بھی سائکل چلانے
کا مقابلہ ہوتا تھا۔سائکلسوار ایک ہفتہ یا پندرہ دن ، چوبیس گھنٹے تک سائکل چلاتا
رہتا۔اس کا کھانا پینا، نہانا دھونا اور کپڑے پہننا سائکل پر ہی ہوتا۔محلے میں
وقفے وقفے سے اعلان ہوتا کہ فلاں میدان میں سائکل سوار کی حوصلہ افزائی کریں،لوگ
آتے اور اس کو روپیہ پیسا اور کھانے پینے اور پہننے کی چیزیں بہم پہنچاتے۔آخری دن
محلے کی کوئی سماجی یا سیاسی شخصیت اس جوان کو ایک رنگی برنگی تقریب میں سائکل سے
اتارتی اور انعام واکرام سے نوازتی۔تقریب کے احتتام پر اسی میدان میں نوجوانوں کے
درمیان ایک یا دونوں ہاتھ سے سائکل اٹھانے کے مقابلے شروع ہوجاتے۔بڑی اور ادھیڑ
عمر والے بزرگ بہت احتیاط سے سائکل چلاتے،گدی کے آگے سے ٹانگ کرکے سائکل پر سوار
ہوتے لیکن اس کے باوجود ان سے سائکل نہ سنبھلتی اور وہ اکثر گر جاتے۔گھروں میں
دودھ مہیا کرنے والے گوالوں کے پاس بہت پرانی سائکل ہوتی جس کے نہ مڈ گارڈ ہوتے
اور نہ بریکیں،گوالے چلتی سائکل کے اگلے ٹائر کو پاؤں لگا کر روکتے تھے۔ریلوے
پھاٹک بند ہوتا تو اکثر لوگ جلدی میں سائکل کاندھے پر اٹھا کر پیدل رستے سے گزر
جاتے اور آگے جاکر کھیل تماشے دیکھنے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوجاتے۔بس پر سفر
کرنے والے کئ بار اپنی سائکل ساتھ لے جاتے کہ بسں یا ٹانگے کے بغیر اگلا سفر سائکل
پر طے ہوجائے۔
بہاولپور
اور ملک کے کچھ حصوں میں سائکل رکشہ بھی چلتا تھا جس میں ایک یا دو سواریاں بیٹھ
جاتی اور سائکل سوار اس کو اپنے زور سے چلاتا تھا۔سائکل رکشہ چلانے والے اکثر غریب
ہوتے اور جلد یا بدیر تپ دق اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو جاتے۔سائکل رکشہ کے ان
مضر اثرات کے باعث حکومت نے اس کے بنانے اور چلانے پر پابندی لگا دی تھی۔بنگلہ دیش
اور ہندوستان کے کچھ علاقوں میں ابھی بھی سائکل رکشہ کا استعمال جاری ہے۔
جب
بائی سائکل کی ہر طرف اس قدر بہتات تھی تو لا محالہ سائکل مرمت کرنے کی بھی ہر گلی
محلے میں دو تین دکانیں ضرور ہوتی تھیں جہاں ہر قسم کے سائکل کی ہر قسم کی مرمت
ہوتی تھی۔عام طور پر سائکل کے پہیوں کی تاریں ٹوٹ جاتی،بیرنگ کی گولیاں گھس
جاتی،چین گراری خراب ہوجاتی،بریکوں کے ربڑ گھس جاتے،ہینڈل ٹیڑھا ہو جاتا تھااور سب
سے اہم پہیے کا چکا گرنے سے ٹیڑھا ہو جاتا یا پھر سائکل کے تکے فیل ہو جاتے۔تکے
فیل ہونے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ پیڈل چلانے سے چین اور گراری حرکت کرتے لیکن
سائکل کا پچھلا پہیہ نہ چلتا۔ ایسے ہی جو بندہ عقل و فراست سے عاری ہوتا یا غصے
والا ہوتا اسے کہتے کہ تمہارے تکے فیل ہوگئے ہیں۔ سائکل کے پیڈل بھی اکثر خراب
ہوجاتے،اچھے والے پیڈل نرم ربڑ کے ہوتے جو پاؤں کی حرکت سے حرکت کرتے تھے۔دوسری
قسم سخت قسم کے پلاسٹک کا ایک ہی پیڈل ہوتا جو ساکن رہتا اور اکثر پاؤں کو لگ کر
زخم کر دیتا۔ کبھی کبھار سائکل مستری پورا سائکل کھول کر اس کے پرزوں کو گرم پانی
سے صاف کرکے اور تیل سے دھو کر دوبارہ جوڑ دیتا جس کو سائکل اور ہالنگ کہتے تھے۔
سائکل
میں ہتھ پمپ سے ہوا بھرنی مفت تھی۔قمیص کے دامن کو پمپ کے دستے میں دے کر ہوا
بھرتے تھے۔اس طریقے سے قمیص پمپ کے گز کی کالک لگنے سے محفوظ رہتی۔سائکل کی ٹیوب
میں ہوا اندازے ہی سے بھرتے تھے اور کئ بار زیادہ ہوا بھرنے سے سائکل کی ٹیوب اور
ٹائر بھی پھٹ جاتے تھے جو پھر نئے ڈالوانے پڑتے۔
مشہور
سائکل دکانوں پر یہ شعر نمایاں لکھا ہوتا تھا کہ۔۔۔
کدھر
کو جاتے ہو کدھر کا خیال ہے
بیمار
سائیکلوں کایہ ہی ہسپتال ہے
سائکل
کی دکانوں میں جہاں مرمت کا کام ہوتا تھا وہیں سائکل کے ٹائر ٹیوب اور اضافی ہرزہ
جات بھی میسر ہوتے تھے۔سائکل سے اس قدر آشنائی تھی کہ اس کے حصے بخروں کے نام تک
یاد تھے،جوگدی، کاٹھی،کیرئیر،ہینڈل،چمٹا،چکا،چین گراری،چین کور،فریم،
لٹھ،بریکیں،تاریں،گولیاں ،نٹ اور قابلے ہوتے تھے۔چین کور ایک مکمل ہوتا تھا جس کی
وجہ سےچین نہیں اترتا تھا اور اس میں کپڑے بھی نہیں پھنستے تھے،دوسرا چین کور آدھا
ہوتا تھا جو چین کے اوپری حصے کو ڈھانپتا تھا لیکن یہ کم محفوظ تھا اور چین کو بھی
اترنے سے بھی کم ہی روکتا تھا۔سائکل والی دکانوں سے دو تین روپے فی گھنٹہ کرائےپر
بھی سائکل دستیاب ہوتی تھی۔جو کبھی کام کے سلسلے میں لے لیتے یا پھر سائکل سواری
کے شوق میں بھی لے لیتے۔اگر کبھی کرائے پر لی گئ سائکل حادثے یا کسی اور وجہ سے
خرابی کا شکار ہو جاتی تو دکاندار اس کی قیمت الگ وصول کرتا۔
پاکستان
میں سائکل سازی کا آغاز 1956ء میں سہراب فیکٹری میں شروع ہوا جو پانچ افراد نے
امداد باہمی کے تحت قائم کی۔اس میں شروع میں روانہ پانچ سائکلیں تیار ہوتیں،جو
بڑھتے بڑھتے 2000 روانہ تک پہنچ گئی اور اس کے ممبران 22 ہوگئے۔ یہ فیکٹری پاکستان
،افغانستان اور بنگلہ دیش کی 80 فی صد سائکلز کی ضروریات کو پورا کرتی،پاکستان کی
سب سے بڑی سائکل مارکیٹ نیلا گنبد لاہور میں تھی جہاں ہر قسم کی سائکلیں دستیاب
تھیں۔یہ سائکل مارکیٹ آج بھی وہاں موجود ہے لیکن اب اس میں کوئی رونق نہیں رہی ہے۔حکومتی
عدم توجہی اور چائنہ سے درآمد شدہ سستی سائکلز نے اس فیکٹری کا تیہ پانچا ادھیڑ کر
رکھ دیا۔ مدت سے ایک سہراب سائکل فیکٹری کے دروازے پر لٹکی ہوئی ہے جو نوجوان نسل
کو اپنی داستان حسرت بیان کر رہی ہے کہ میں وہ سائکل ہوں جس کی قینچی چلا کر آپ کے
باپ دادا نے اسی طرح سائکل چلانا سیکھی جس طرح قینچی چلا کر اس ملک کے حکمران 75
برسوں سے اس ملک کو چلا رہے ہیں۔
ابا جی
کی سائکل جب مجھے منتقل ہوئی تو اس کے حصے بخرے ہونے شروع ہو چکے تھے،گدی
کہیں،کاٹھی کہیں۔پہیے اور چکے الگ، الگ ہوگئے،چین گراری کوئی لے گیا۔پیڈل کہیں گم
ہوگئے،ہینڈل کسی اور سائکل میں لگ گیا اور ٹائر وٹیوب ٹکروں میں بٹ گئے۔آخر میں اس
سائکل کا درمیانہ فریم بچا تھاجو میں نے ایک سائکل دکاندار کو بیچ دیا جسے اس نے
اپنی دکان کی مشہوری کے لئیے دیوار پر کیل لگا کر اس کو ہمیشہ کے لئیے لٹکا کر
محفوظ کر دیا تھا اور میں آتے جاتے اس کو دیکھ کر ابا جان کی مرحوم سائکل کو یاد
کرتا رہتا جسے تھوڑا عرصہ ہی میرے پاس رہنا نصیب ہوا تھا۔


0 Comments