Advertisement

Responsive Advertisement

جناح اور رتی


رتی کی وفات

جنوری اور فروری 1929 میں رتی جناح بیمار رہیں جس کی وجہ سے وہ بڑی پژمردہ رہا کرتی تھیں۔ جناح ہر روز شام کے

 وقت ان سے ملنے جایا کرتے تھے اور جب میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تو بیتے دنوں کی باتیں ہوا کرتی تھیں۔ اب جناح اور رتی باہمی مفاہمت کی طرف آرہے تھے۔

17 فروری کی صبح کو میں مسز بیسنٹ کے استقبال کے لیئے اسٹیشن گیا، دوپہر کا کھانا ان کے ساتھ کھا کر گھر پہنچا تو رتی آگئیں۔ وہ بےحد ملول اور بجھی بجھی سی تھیں۔ تقریباً چار گھنٹے میرے گھر پر رہیں۔ میں نے ان کے لیئے چائے بنائی۔ ان کی حالت دیکھتے ہوئے انہیں تنہا چھوڑنا مناسب نہیں تھا۔ اسی لیئے شام کی چائے کے لیئے میں مسز بیسنٹ کے ہاں بھی نہیں جاسکا۔ سات بجے کے قریب میں نے رتی کو ان کے گھر چھوڑا اور وعدہ کیا کہ مسز بیسنٹ سے ملنے کے بعد سوا دس بجے رات تک ان کے پاس آجاؤں گا، لیکن جب میں رات کو وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ رتی بےہوش پڑی تھیں۔ کچھ دیر بعد انہیں ہوش آیا۔ دوسرے دن یعنی 18 فروری کی صبح کو فون ملایا کہ دفتر جاتے ہوئے ان سے ملتا جاؤں، اس دن وہ بےحد افسردہ نظر آئیں۔ کچھ تو ان کی دلبستگی کی خاطر اور کچھ انہیں خوش کرنے کے لیئے میں نے ادھر ادھر کی باتیں کیں اور "اچھا اب میں رات کو پھر ملوں گا" کہہ کر ان سے رخصت ہونے لگا تو انہوں نے بڑی افسردگی سے جواب دیا: "اگر زندہ رہی تو! ورنہ دیکھو میری ان بلیوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنا کسی اور کو نہ دینا۔" رتی کے یہ آخری الفاظ تھے جو میں نے سنے۔ میں رات کو کھانے پر اندھیری میں ایک جگہ مدعو تھا، وہاں سے سوا گیارہ بجے لوٹا تو سیدھا رتی کے گھر پہنچا۔ معلوم ہوا کہ وہ گہری نیند سو رہی ہیں۔ میں بھی دو راتوں سے سو نہیں پایا تھا، اپنے گھر چلا آیا۔

 

اگلے دن سہ پہر کو فون پر اطلاع ملی کہ رتی پھر بےہوش ہوگئی ہیں اور جینے کی کوئی امید باقی نہیں ہے۔ میں اسی وقت ان کے گھر گیا لیکن انہیں دیکھ نہ سکا۔ 20 فروری کو رتی کی سالگرہ تھی، لیکن ٹھیک اسی تاریخ کو وہ اس دنیا سے چل بسیں۔ جناح ان دنوں دلی میں مرکزی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں مصروف تھے۔ بڑی مشکل سے 22 فروری کو بمبئی پہنچ پائے۔ گرانٹ روڈ پر کرنل سوکھے، ان کی بیوی اور میں جناح کو لینے گئے۔ اس وقت سے لیکر تجہیز و تکفین تک، یعنی پورے پانچ گھنٹے میں جناح کے ساتھ رہا۔ میرا خیال تھا کہ خود رتی دفن کیئے جانے کی بجائے (ہندوؤں کے طریقے سے) جلائے جانا پسند کرتیں۔ یہ بات میں نے جناح سے بھی کہی لیکن وہ نہ مانے اور اسلامی طریقے سے تدفین کا انتظام کیا گیا۔ سارا وقت جناح بڑے ضبط اور ہمت سے کام لیتے رہے۔ کچھ دیر تو خاموش رہے پھر انہوں نے یکایک بڑی روانی کے ساتھ اسمبلی کی کاروائی کا زکر شروع کردیا۔ وہ اسمبلی کے سیپکر وٹھل بھائی پٹیل کا زکر کرکے کہنے لگے کہ کس طرح وہ حکومت کے خلاف ایک پیچیدگی میں پڑ گئے تھے اور پھر کیسے انہوں نے وٹھل بھائی کی دستگیری کی۔ اور دوسری باتوں کا بھی زکر کرنے لگے۔ لیکن یہ بات چھپ نہیں رہی تھی کہ جناح کا دل رو رہا ہے اور وہ بےمحل گفتگو چھیڑ کر اپنے جذبات کو چھپانے کی انتہائی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سب اس وقت تک ہوتا رہا جب تک جنازہ قبر کے پاس رکھا تھا، لیکن جونہی رتی کی میت قبر میں اتاری گئی اور جناح سے مٹی دینے کو کہا گیا تو ضبط کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ دیر تک بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے۔

 

رتی کے بعد جناح تنہائی پسند ہو کر گوشہ نشین ہوگئے تھے۔ رتی کی موت کا اثر ان پر غیر معمولی حد تک پڑا تھا۔ اپنی زندگی کے بقیہ انیس سال میں انہوں نے اس کا نہ تو کبھی نام لیا اور نہ اس کا کوئی زکر آنے دیا۔ یہاں تک کہ گھر میں انکی کوئی تصویر بھی نہ تھی۔ رتی کے پاس کتابوں کے بعض نادر پہلے ایڈیشن تھے۔ یہ سب چیزیں میوزم کی زینت بن سکتی تھیں لیکن جناح نے ان کو بڑے بڑے صندوقوں میں ہمیشہ کے لیئے بند کردیا۔

 

کانجی دو آرکاداس

Muhammad Ali Jinnah & Ratti Jinnah

Post a Comment

2 Comments