Advertisement

Responsive Advertisement

کیا لباس ہمارا ذہن بدل سکتے ہیں؟

کیا لباس معاشرے میں انسان کی نمایندگی کرتا ہے؟ کیا لباس ہمیں بُری نظروں سے بچاتا ہے؟ یہ کچھ سوالات ہمارے معاشرے کہ ہر ایک فرد کے ذہنوں پر سوار ہیں۔

میں بھی اسی سوال کے جواب میں دربدر ہوں۔ حال ہی میں وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کے ایک بیان نے مُلک میں ایک بار پھر اس بحث کو چھیر دیا کہ کسی عورت کو محفوظ رکھنے میں لباس اہمیت رکھتا ہے

کہا جاتا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں عورتیں بہت چھوٹا لباس پہنتی ہیں لیکں وہاں پر ریپ کی شرح بہت کم ہے اسی لیے لباس کا ہوس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے اور اُن کے معاشرے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اُن کی سوچ اور ہماری سوچ میں واضح فرق ہے ہمارے سوچنے کے زاویے ہی الگ ہیں۔

ہمارے معاشرے کے انسان کو چھوٹا لباس فینٹسایز کرتا ہے کیونکہ وہ ایسے لباس کو صرف ٹیلیویژن پر ہی دیکھتے ہیں اور جب وہ چیز حقیقت میں اُن کے سامنے آ جاے تو وہ اسے حاصل کرنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں چاہے اُنہیں اس کے لیے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑۓ۔۔

اس کے علاوہ ہمارا مذہب ہمیں تلقین کرتا ہے کہ اپنے بدن کو اچھے سے ڈھانپ لو تاکہ کسی نامحرم کی نظر تم پر نہ پڑے۔ اس کے ساتھ مرد کے لیے بھی تلقین ہے کی اپنی نظر کو ہمیشہ نیچہ رکھو اور حیا کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو۔

میں نے کئی ایسی بزرگ خواتین کو دیکھا ہے جن کا دوپٹہ پھٹہ ہوا ہوتا ہے مگر سر پر ہوتا ہے یہ ہے ہمارا معاشرہ اور ہم اس سے پیچھہ نہیں چُھروا سکتے، ہم اپنی عورتوں کو چھوٹے لباس پر قایل ہی نہیں کر سکتے اور نہ ہم اُن پر کوئی "ڈریس کوڈ" لگا سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں کچھ گروپس ہیں جو کہ عورت کو ہر قسم کی آزادی دلوانہ چاہتے ہیں، اور وہ مغربی معاشرے کو ایک پیمانہ بنا لیتے ہیں اور ہماری عورتوں کو اُن جیسی آزادی دلوانے کی بات کرتے ہیں۔ اور جو وہ مغرب میں دیکھتے ہیں ویسا ہی ماحول یہاں پر بنانے کی کوشش کرتےہیں۔

کیا یہ سب ٹھیک ہے کہ ہم کسی معاشرے کی وہ چیز اپنے لیے چُن لیں جو ہمارے معاشرے اور مذہب دونوں سے ٹکراتی ہو؟

ہم سادہ لوح انسان ہیں جو مذہب اور معاشرے کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہم عورت کو اپنے سر کا تاج سمجھتے ہیں چند مردوں کے غلط 

رویے پر  یہ کہنا کہ ہمارے معاشرے کے مردایک اینٹی وومن سوچ رکھتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے۔

تحریر: ابوذر علی



Post a Comment

0 Comments