میں نے خدا اور بنی نوع انسان کو ناراض کیا ہے کیونکہ میرا کام اس معیار تک نہیں پہنچا ہے جس میں اسے ہونا چاہئے""
لیونارڈو 15 اپریل 1452ء کو فلورنس کے
گردونواح کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس کی سوتیلی ماں نے اسے بے حد پیار اور باپ
کا خاندانی نام دیا۔ وہ بھی دو چار سال بعد فوت ہو گئی۔ لیونارڈو نے ماں کی شفقت
اور ممتا کے بغیر بچپن گزارا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ساری زندگی عورتوں سے دور
رہا۔ اس نے عورتوں کی لافانی تصویریں تو بنائیں مگر اس کے دل کا کینوس کسی عورت کی
تصویر سے خالی ہی رہا۔ عورت اگر اس کی زندگی میں آئی بھی تو صرف ماڈل بننے کی حد
تک!
شیکسپیئر نے اپنے کسی ڈرامے میں نا جائز
بچے کے بارے میں لکھا تھا کہ شادی کے بندھن سے آزاد، محبت کے لمحات میں جنم لینے
والا بچہ صلاحیتوں اور ذہانت سے بھرپور ہوتا ہے، اس میں تخلیقی جوہر کوٹ کوٹ کر
بھرے ہوتے ہیں۔ ونچی کے رہنے والے لیونارڈو نے یہ بات سچ کر دکھائی، وہ نشاۃ ثانیہ
کا سب سے بڑی اور مسحور کن شخصیت بن کر اُبھرا اور آنے والی صدیوں پر اپنے کام
اور نام کی مہر لگا دی۔ لیونارڈو داونچی کا بچپن اچھا گزرا۔ سوتیلی ماں اور باپ نے
اسے بہت پیار دیا۔ بچپن ہی سے وہ ڈرائنگ، ریاضی اور موسیقی میں دلچسپی لینے لگا،
بانسری بجانے میں بھی اس نے مہارت حاصل کی۔ سوتیلی ماں کی وفات کے بعد اس کا باپ اداس
ہوتا تو وہ بانسری پر کوئی دھن بجا کر باپ کا غم دور کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
کاغذ پر تصویریں بنانے کا شوق پیدا ہوا تو
اس نے تصویریں بنا کر کاغذوں کا ڈھیر لگا دیا۔ جوں جوں لیونارڈو بڑا ہوتا گیا یہ
شوق اس کے دل میں جڑ پکڑتے گئے لیکن کاغذ پر نقش و نگار بنانے والے لیونارڈوداونچی
کی باریک اور خوبصورت انگلیاں دیکھنے میں نرم اور نازک تھیں مگر مضبوط بھی تھیں۔
لیونارڈو خوبصورت ہی نہ تھا طاقتور اور شہ زور بھی تھا۔ اس کے بارے میں مشہور ہے
کہ اس نے لڑکپن میں گھوڑے کی ایک نعل اٹھائی اور سخت لوہے کو اپنے ہاتھ سے مروڑ کے
رکھ دیا۔ لوہے کے ساتھ یہ کھیل کھیل کر اسے ساری زندگی ایک سزا سے دو چار ہونا
پڑا۔ سنا ہے کہ لکھنے، خاکے بنانے کے لیے اس نے اپنا بایاں ہاتھ استعمال کیا۔
گھوڑے کی نعل کو مروڑنے اور دہرا کرنے سے اس کا دایاں ہاتھ بے کار ہو گیا تھا۔
جب لیونارڈو پندرہ سولہ سال کا ہوا تو باپ
مصوری اور ڈرائنگ میں اس کا شوق دیکھ کر اسے فلورنس لے گیا۔ فلورنس میں اپنے زمانے
کے مشہور مصور اور سنگتراش ویروکیو (Verrocchio) نے
آرٹ اکیڈمی کھول رکھی تھی۔ لیونارڈو کو سفارش کے بعد اکیڈمی میں داخلہ مل گیا۔ جس
نے جاتے ہی ویروکیو کی مصوری سے توبہ کرا دی۔ کبھی کبھی ذہین شاگرد استاد کے لیے
خطرناک ثابت ہوتے ہیں مثلاً، افلاطون کے لئے ارسطو، جو قدم قدم پر استاد کے نظریات
کی مخالفت کرتا تھا، اس پر افلاطون ہنس ہنس کر برداشت کرتا اور کہتا: ’’ارسطو میرا
وہ بچھڑا ہے جو ماں کا سارا دودھ پی کر ماں کو دو لتیاں ماررہا ہے۔‘‘ لیکن ویروکیو
افلاطون کی طرح نہ تھا۔ لیونارڈو نے استاد کی ایک تصویر ’’عیسیٰ کا بپتسمہ‘‘ دیکھی
اور تصویر کے ایک طرف ایک فرشتے کی تصویر بنا دی۔ یہ تصویر اس قدر جاذب نظر تھی کہ
ویروکیودنگ رہ گیا۔ سارے فلورنس میں یہ کہانی پھیل گئی کہ ویروکیو نے مصوری چھوڑ
کر مجسمہ سازی شروع کر دی ہے۔
لیونارڈو داونچی بے پناہ صلاحیتوں کا مالک
تھا۔ اس کا ذہن علم اور دانش کے لئے ہر طرف بھٹکتا پھرتا تھا۔ اس جستجو اور نئے پن
کی تلاش نے اُس کی شخصیت کو حیران کن تخلیق کار بنا دیا۔ وہ مصور، مجسمہ ساز،
انجینئر، سائنس دان، موجد، ماہر نباتات کے علاوہ علم الاجسام کا شناسا، ریاضی دان،
موسیقار اور مصنف بھی تھا۔ اسے ہر عہد کا بڑا مصور سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتاہے کہ
اس جیسا دماغ شاید دنیا میں کوئی دوسرا نہیں۔ اس کے فن اور علم کی سرحدیں بہت وسیع
تھیں۔ ہیلن گارڈنر نے اسے اپنی کتاب میں Super Human کے لقب سے یاد کیا ہے۔ اس کا سوانح نگار انونیموگا دیا نو کہتا
ہے: ’’لیونارڈو کی تخلیقی قوتیں اس قدر بے مثال اور آفاقی تھیں کہ اسے قدرت کا
ایک مجعزہ کہا جا سکتا ہے۔‘‘ ایک دوسرے نقاد نے لیونارڈو کے بارے میں لکھا: ’’دنیا
میں کوئی دوسرا دماغ لیونارڈو جیسا نہیں۔ ایک ایسا دماغ جو ہر لحاظ سے مکمل تھا۔
جس کی سوچ اپنے عہد سے بہت آگے تھی اور اس کے بعد آنے والی صدیاں اس کے زیر اثر
رہیں۔‘‘ لیونارڈو داونچی کے کام کا جائزہ لینے کے لئے کئی کتابیں درکار ہیں۔ اسے
جس شعبے میں بھی دیکھیں اس کا کام دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اس نے جو منصوبے بنائے،
جو تھیوری پیش کی، جو ڈرائنگ بنائی، ان پر آج تک کام ہو رہاہے، اس کی میں صرف ایک
مثال دوں گا اور یہ مثال مصوری یا مجسمہ سازی کی نہیں۔ انجینئرنگ کے شعبے سے ہے۔
1502ء میں لیونارڈو سلطان بایزید
II کی دعوت پر ترکی گیا اور 720 فٹ لمبے پل کا نقشہ تیار
کیا جس کا نام Golden Horn رکھا گیا۔ اس کی شکل سینگ
کی طرح تھی۔ بایزید نے اس کو اس بنیاد پر رد کر دیا کہ ایسا پل بنانا نا ممکن ہے۔
لیونارڈو واپس آ گیا اور نقشہ وہیں چھوڑ آیا۔ 2001ء میں بالکل لیونارڈو کے نقشے
کے مطابق ناروے میں ایک پل بنایا گیا۔ 17 مئی 2006ء کو ترکی حکومت نے لیونارڈو کا
بنایا ہوا نقشہ نکالا اور Golden Horn کے
منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ ول ڈیورانٹ تو یہاں تک کہتا ہے کہ ترکی کے قیام کے
دوران اس نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اس کے واضح ثبوت نہیں ملتے۔ لیونارڈو کی
وجہ شہرت عام قاری کے نزدیک مونالیزا کی تصویر ہے، لیکن جب لیونارڈوداونچی کا
تفصیلی جائزہ لیا جائے تو اس کی کارکردگی پر رشک آتا ہے۔
ویروکیو کی اکیڈمی سے فارغ ہو کر کچھ عرصہ
لیونارڈو نے سانتا ماریہ نووا ہسپتال میں اناٹومی پڑھنے میں گزارا۔ اسی دوران ایک
ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے اسے فلورنس سے متنفر کر دیا۔ لیونارڈو اپنی 24 ویں
سالگرہ منانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اس کے تین دوستوں اور اس پر بداخلاقی کا
مقدمہ درج کر لیا گیا۔ الزام ہم جنس پرستی تھا۔ چاروں کو سزا سنا دی گئی۔ بعد میں
لیونارڈو پر لگے الزامات جھوٹ ثابت ہونے پر اسے قید سے رہائی مل گئی لیکن وہ ساری
زندگی فلورنس سے نفرت کرتا رہا۔ ویرو کیوکی بنائی ہوئی تصویر Babtism of Christ میں بائیں طرف ایک فرشتے کی شبیہہ بنا کر لیونارڈو نے اسے
مصوری چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ اس سکول میں قیام کے دوران لیونارڈو نے
Oil Paint کی نئی نئی پرتوں کو متعارف کرایا۔ میدانوں،
ندیوں، پہاڑوں، کو تصویروں میں استعمال کیا۔ اس قیام کے دوران دلچسپ بات یہ ہے کہ
دو ایک بار تصویر بناتے وقت ویروکیو نے لیونارڈو کو بطور ماڈل بھی استعمال کیا۔
میلان کے قیام کے دوران اس نے Virgin of the Rocks اور اپنی مشہور تصویر The Last Supper یعنی
’’آخری ضیافت‘‘ بنائی جسے دنیا کا بہترین شاہکار قرار دیا جاتا ہے۔
مصوری میں لیونارڈو کی
Mona Liza ایک مثالی شاہکار ہے۔ جو صدیوں سے لوگوں کی
نظروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کو جب بھی دیکھیں نئے پن کا احساس ہوتا ہے۔ یہ جان
کر حیرت ہوتی ہے کہ لیونارڈو نے اس تصویر کو نا مکمل چھوڑ دیا تھا۔ اس کا پس منظر
بھی بہت دلچسپ ہے۔ لیونارڈو نے یوں بہت سی عورتوں کی تصویریں بنائیں۔ میلا کے ڈیوک
کی بیوی، بیٹرائس، اپنی دو پسندیدہ عورتوں سیلیا اور لوکزیزیا کو ماڈل بنا کر اپنے
پورٹریٹ بنائے مگر وہ ان سے مطمئن نہ تھا۔ وہ کوئی شاہکار بنانا چاہتا تھا اور کسی
خاص چہرے کی تلاش میں تھا۔ آخر وہ چہرہ اسے مل گیا۔ مونالیزا فرانسسکوڈیل جو کنڈو
کی غالباً تیسری بیوی تھی۔ 1499ء میں مونالیزا کا بچہ فوت ہو گیا۔ وہ مسلسل تین
سال اسے اپنے سٹوڈیو میں بلاتا رہا کبھی اس کے پس منظر میں روشنی اور سائے بناتا،
کبھی دریا اور درخت کبھی صبح و شام کا منظر۔ کبھی اسے ریشمی کپڑے پہناتا کبھی کھدر
کا سادہ لباس۔ اس کے چہرے پر ایک غم کی کیفیت بیان کرنے کے لئے اس نے سازندوں کا
ایک گروپ بلایا اور انہیں ایسی دھنیں بجانے کے لئے کہا جو مونالیزا کے چہرے پر
مامتا کا لطیف جذبہ جگا دے۔ منوں کاغذ اور سیروں رنگ خرچ ہو گئے مگر لیونارڈو کو
چہرے پر وہ کیفیت نہ ملی جو وہ چاہتا تھا۔ آخر لیونارڈو نے یہ تصویر نا مکمل چھوڑ
دی۔ مونالیزا کے خاوند نے یہ تصویر لینے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ وہ شاید نہیں
چاہتا تھا تصویر آنے والے مہمان کو گھورتی اور مسکراتی رہے۔ چنانچہ لیونارڈو نے
یہ تصویر اپنے پاس ہی رکھ لی۔ لیونارڈو کی وفات کے بعد یہ تصویر اس کے شاگردوں کے
ہاتھ آ گئی اور مختلف محلوں سے ہوتی ہوئی اب یہ لوورے کے عالی شان
Salon Carre میں سجی ہے، ہزاروں لوگ روزانہ اس کی
مسکراہٹ کا بھید سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کسے مسکرا کر دیکھ رہی ہے۔
لیونارڈو کو، اپنے خاوند کو، سازندوں کو یا ان لوگوں کو جو اسے دیکھنے آتے ہیں۔

0 Comments