Advertisement

Responsive Advertisement

احساسِ محرومی

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک علاقے میں روزمرہ کی اشیإ خوردونوش کے لیے ایک چھوٹی سی سراے تھی جہاں سے لوگ اپنی ضروریات کا سامان لیتے تھے۔ اس سراے کا ایک چوکیدار بھی تھا پر علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز کبھی بھی نہیں بنا۔ چوکیدار کی دولت اور طاقت کی خواہشات آہستہ آہستہ اس پہ حاوی ہونے لگیں اور اسکو عجیب قسم کی الجھن نے گھیر لیا۔ ایک رات وہ اسی کشمکش میں کہ لوگوں کو میری پرواہ نہیں اور میری ضروریات(خواہشات) زیادہیں۔ چنانچہ رات کو متعدد دکانوں کو لوٹ کر سامان اپنے گھر چھپا لیا۔ اگلے دن لوگ اپنی دکانوں کی حالت دیکھ کے ہکا بکا رہ گئے۔ چوکیدار نے بتایا کہ پڑوس کی بستی کے لوگ آ تھے اور اسے باندھ کر دکانوں کو لوٹ کر چلے گیاقاضی تک بات پہنچنےسے پہلے چوکیدار اس لوٹ کے مال کا آدھا حصہ اسکے گھر پہنچا چکا تھا۔

کچھ عرصے تک چوکیدار اس طرح کی کاروایاںکرتا رہا اور ایک آدھ بار خود کو زخمی کرنے کا ڈھونگ بھی رچایا کہ میری مزاحمت کی وجہ سے اس بار زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔

اس کے بعد ایک دم سے یہ سلسلہ ختم ہوا پر اسکے بعد لوگوں کے ذہنوں میں وہ اپنی افادیّت اور ضرورت کا احساس اجاگر کر چکا تھا۔

لوگوں نے اسکی مزدوری بڑھا دی۔ اس وقت کے لحاظ سے جدید اصلحہ تھما دیا۔ اور کچھ ہی عرصے میں وہ سب کا مسیحا بن کے ابھر آیا۔ 

پھر اسکے بعد اس نے لوگوں کے مختلف مذاہب اور مسلک کی بنیاد پر ایک اور ڈرامہ رچایہ۔

لوگوں کے ذہنوں میں مذہب اور فرقہ واریت کی آگ لگا کر اپنے من پسند لوگوں کے کاروبار کو دوام بخشا اور ان سے اپنا برابر حصہ وصول کرتا رہا۔

کچھ عرصے تک یہی سلسلہ چلتا رہا اسکے بعد جسے ہی طوطا چشم لوگ اس سے منہ پھیرنے لگے جنکا کاروبار اسکی وجہ سے ہی بلندیوں کو چھونے لگا تھا۔ اس نے فوراً اپنی ہمدردیوں کا رخ کاروباری لحاظ سے محروم طبقے کی طرف کرکے ان سے باقاعدہ سودا کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دولت کی ہما طوطا چشم لوگوں پر سے اُڑ کے محروم کاروباری لوگوں کے سر پہ بیٹھ گا۔

لوگوں کے کاروبار اور زندگی میں اتار چڑھاآنا شروع ہوگا۔ پر وہ دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرنے لگا۔ آس پاس کے علاقوں میں میں اپنے کاروباری مراکز بناۓ۔ 

اپنے علاقے میں وہ سب کا مسیحا، قاضی بن گیا۔ غرض یہ کہ لوگ مکمل انکے زیرِعتاب آ گیا۔ اب وہ جو چاہتا ویسے ہی ہوتا۔

نتیجہ:-

١۔اگر انسان لگن کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کے لیۓ کوشش میں لگا رہے تو کامیابی ضرور اسکے بوٹ چومتی ہے۔

٢۔انسان کسی بھی طرح کی تقسیم کے بعد اپنا سب کچھ کھو دیتا ہے یہاں تک کہ انسانیت بھی۔




Post a Comment

0 Comments